Important Medical tests of Modern age you must know about by Vickyquotes
اکثر ڈاکٹر حضرات ٹیسٹ لکھ کر دیتے ہیں اور اکثر لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان ٹیسٹوں میں فرق کیا ہے
یہاں X-Ray، CT-Scan، MRI، اور PET-Scan کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات پیش کی جا رہی ہیں:
1. ایکس رے (X-Ray):
مقصد: زیادہ تر ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ، نمونیا، دانتوں کے مسائل، اور سینے میں انفیکشن کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
امیج: جسم کے مخصوص حصے کی 2D تصویر بناتا ہے جو ہڈیوں اور ٹھوس ڈھانچوں کو ظاہر کرتی ہے۔
تابکاری: کم مقدار میں تابکاری ہوتی ہے لیکن بار بار استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
فائدے:
تیز رفتار اور کم قیمت۔
ہسپتالوں اور کلینکس میں با آسانی دستیاب۔
نقصانات:
نرم ٹشوز (پٹھے، دماغ وغیرہ) کی تفصیلات واضح نہیں ہوتیں۔
2. سی ٹی اسکین (CT-Scan):
مقصد: نرم ٹشوز، ہڈیوں، خون کی نالیوں، اور دیگر اندرونی اعضاء کی تفصیلات دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خاص طور پر دماغی چوٹ، فالج، اور کینسر کے مریضوں کے لیے مفید۔
امیج: 3D تصویر فراہم کرتا ہے جس میں جسم کے اندرونی ڈھانچے کی مکمل اور تفصیلی معلومات ہوتی ہیں۔
تابکاری: ایکس رے سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے کم استعمال کی تجویز دی جاتی ہے۔
فائدے:
جسم کے کسی بھی حصے کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔
سنگین چوٹوں کی تشخیص میں مدد کرتا ہے۔
نقصانات:
تابکاری کی بلند سطح۔
تھوڑا مہنگا اور بعض اوقات خاص تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
—
3. ایم آر آئی (MRI):
مقصد: دماغ، ریڑھ کی ہڈی، پٹھے، جوڑوں اور پیٹ کے امراض کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خاص طور پر نرم ٹشوز کی تفصیلات کے لیے بہترین۔
امیج: 3D تصویر بناتا ہے جو نرم ٹشوز کی بہترین وضاحت فراہم کرتا ہے۔
عمل: طاقتور مقناطیس اور ریڈیو لہروں کی مدد سے جسم کے اعضاء کی تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں۔
تابکاری: تابکاری بالکل نہیں ہوتی۔
فائدے:
نرم ٹشوز جیسے دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کی بہت اعلیٰ تفصیلات فراہم کرتا ہے۔
تابکاری کے بغیر محفوظ طریقہ۔
نقصانات:
بہت مہنگا اور زیادہ وقت طلب۔
بعض افراد کو مقناطیسی فیلڈ میں بند ہونے کی وجہ سے گھبراہٹ ہو سکتی ہے۔
—
4. پی ای ٹی اسکین (PET-Scan):
مقصد: جسم میں میٹابولک تبدیلیوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر کینسر کی تشخیص اور اس کے پھیلاؤ کی جانچ کے لیے۔
عمل: مریض کے جسم میں تابکار مادہ (radioactive tracer) داخل کیا جاتا ہے، جو جسم کے میٹابولک ردعمل کو ظاہر کرتا ہے۔
فائدے:
کینسر کے علاج کی کامیابی کی نگرانی میں مدد کرتا ہے۔
کینسر، دل کی بیماری اور دماغی عوارض کی تفصیلی جانچ کے لیے مفید۔
نقصانات:
مہنگا اور تابکاری شامل ہوتی ہے۔
وقت طلب اور خاص تیاری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
—
یہ معلومات آپ کو مختلف طبی ٹیسٹوں کے انتخاب میں مدد دے سکتی ہیں اور یہ سمجھنے میں بھی کہ کون سا طریقہ آپ کی حالت کے لیے زیادہ مناسب ہے۔